حدیث · 5453

رسول اللہ ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عنِ النَّفْخ في الشّراب، فقال رجل: القَذَاة أَرَاهَا في الإناء؟ فقال: «أَهْرِقْهَا». قال: إِنِّي لا أَرْوى من نَفَس واحد؟ قال: «فَأَبِنِ القدح إذًا عن فِيك».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا، اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر مجھے پانی میں کوئی تنکا نظر آ جاتا ہے تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے انڈیل دو۔ اس نے مزید پوچھا کہ میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہو پاتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم سانس لو، تو پیالہ اپنے منہ سے ہٹا دو۔

صحیح ماخذ: رواه الترمذي وأحمد ومالك والدارمي

شرح

نبی ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! بعض اوقات پانی میں کوئی تنکا ہوتا ہے اور اسے نکالنےکے لیے انسان پھونک مارتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: جس پانی میں تنکا وغیرہ ہو، اس میں پھونک نہ مارو؛ بلکہ اسے انڈیل دو۔ اس شخص نے مزید پوچھا کہ وہ اگر ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا، تو پھر کیا کرے؟ اس پر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ وہ برتن کو اپنے منہ سے ہٹا کر سانس لے اور پھر دوبارہ پی لے۔

کھانے پینے کے آداب

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات