حدیث · 5402

کيا ميں تمہيں اللہ کے نزديک سب سے پسنديدہ کلام سے با خبر نہ کردوں؟

عن أبي ذر الغفاري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ألاَ أُخْبِرُكَ بِأَحَبِّ الكَلاَمِ إِلَى اللهِ؟ إنَّ أَحَبَّ الكلام إِلى الله: سبحان اللهِ وبحمدِهِ».

ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کيا ميں تمہيں اللہ کے نزديک سب سے پسنديدہ کلام سے با خبر نہ کردوں؟ بے شک اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلام : سُبْحَانَ اللَّهِ وبِحَمْدِهِ (اللہ پاک ہے اپنی تعریفوں کے ساتھ) ہے“۔

صحیح ماخذ: رواه مسلم

شرح

حديث اس بات پر دلادلت کر رہی ہے کہ اللہ رب العالمين کو سب سے پسنديدہ کلام اس کی تسبيح بيان کرنا (سُبْحَانَ اللَّهِ کہنا) ہے، اس ليے کہ تسبيح کا معنی اللہ رب العالمين كو ہر اس چيز سے منزه و پاک قرار دينا ہے جو اس کے ليے نا مناسب ہے، چاہے وہ اللہ کی شان ميں کوئی نقص ہو يا اللہ کو کسی مخلوق سے مشابہ اور مانند قراردينا ہو، يا اللہ کے ناموں ميں کج روی اختيار کرنا ہو۔ اور ’بِحَمْدِهِ‘ کہنے والے کا قول اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ تسبیح اللہ سبحانہ کی حمد کے ساتھ تھی،پس اس میں اسی کا احسان ہے۔ نیز اس کا يہ بھی مفہوم ہو سکتا ہے کہ: ميں اللہ کی توفيق دہی سے اس کی حمد وثنا کرتے ہوئے اس کی پاکی بيان کر رہا ہوں۔ اسی ليے ’سُبْحَانَ اللَّهِ ، وبِحَمْدِهِ‘ اللہ، رب العالمين کو بہت زيادہ محبوب ہے کیوں کہ اس ميں اللہ رب العالمين کی پاکی و تقدیس اور ہر طرح کے احسان کے ساتھ تعريف شامل ہے۔

ذکر کے فضیلت

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات