حدیث · 5355
جب ایک جماعت کسی کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک آدمی کا سلام کرنا کافی ہے۔ اور جماعت میں سے ایک آدمی کا جواب دینا کافی ہے
عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه مرفوعاً: «يُجْزِئُ عن الجماعة إذا مَرُّوا أن يُسَلِّم أحدهم، ويُجْزِئُ عن الجماعة أن يَرُدَّ أحدهم».
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب ایک جماعت کسی کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک آدمی کا سلام کرنا کافی ہے۔ اور جماعت میں سے ایک آدمی کا جواب دینا کافی ہے“۔
شرح
اگر جماعت میں سے ایک آدمی سلام کر لیتا ہے، یا جواب دے دیتا ہے تو تمام کی طرف سے کافی ہوگا۔
سلام کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں