حدیث · 5352

چھوٹا بڑے کو، راہ گیر بیٹھے ہوئے کو اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: "لِيُسَلِّمِ الصغيرُ على الكبيرِ، والمارُّ على القاعدِ، والقليلُ على الكثيرِ" وفي رواية: "والراكبُ على الماشي".

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”چھوٹا بڑے کو، راہ گیر بیٹھے ہوئے کو اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

حدیث سے سلام کی ابتدا کرنے کے بارے میں مستحب ترتیب کا پتہ چلتا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں مندرجہ ذیل چار انواع کا ذکر فرمایا:

اول:چھوٹا بڑے کے احترام میں اُسے سلام کرے۔

دوم: پیدل چلنے والے کو چاہیے کہ وہ بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرنے میں پہل کرے کیونکہ وہ اس کے پاس آنے والے کی طرح ہے۔سوم: جو لوگ زیادہ تعداد میں ہوں ان کا کم تعداد والوں پرحق ہے۔چنانچہ افضل یہ ہے کہ کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں۔

چہارم: سوار کو سوار ہونے کی وجہ سے خصوصیت حاصل ہے۔ سوار کا سلام میں پہل کرنا اللہ کی اس پر نعمت کا شکر ادا کرنے کے مترادف ہے۔

سلام کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات