حدیث · 4792

جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی، جو اس کا حصہ نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہیں ہے

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ» متفق عليه. ولمسلم: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ».

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

”جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی، جو اس کا حصہ نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہیں ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہيں ہے“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے دین کے اندر ایسی کوئی نئی چیز ایجاد کی یا ایسا کوئی نیا کام کیا، جو قرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہو، تو اسے اسی کے منہ پر مار دیا جائے گا اور اللہ کے یہاں قبول نہیں کیا جائے گا۔

حدیث کے فوائد

  • عبادتوں کی بنیاد قرآن اور حدیث ہے۔ لہذا ہم اللہ کی عبادت قرآن اور حدیث کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی کریں گے۔ بدعتوں اور عبادت کی نت نئی شکلوں سے ہر حال میں دور رہيں گے۔
  • دین کی بنیاد رائے اور استحسان پر نہیں ہے۔ دین کی بنیاد اتباع رسول پر ہے۔
  • یہ حدیث دین کے کامل ہونے کی دلیل ہے۔
  • بدعت ہر اس عقیدہ، قول یا عمل کو کہتے ہیں، جسے دین کے ایک جزء کے طور پر ایجاد کیا گیا ہو اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کے زمانے میں موجود نہ رہا ہو۔
  • یہ حدیث اسلام کے ایک اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اعمال کے میزان کی طرح ہے۔ جس طرح جب کسی عمل کا مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول نہ ہو، تو کرنے والے کو اس کا کوئی ثواب نہيں ملتا، اسی طرح جو عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے مطابق نہ کیا جائے، اسے کرنے والے کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔
  • منع صرف ان نئی چیزوں سے کیا گیا ہے، جن کا تعلق دین سے ہو، ان سے نہيں، جن کا تعلق دنیا سے ہو۔

بدعت

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات