حدیث · 4709
غصہ مت کیا کرو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں :
ایک شخص نے اللہ کے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ مت کیا کرو“۔ اس نے یہ سوال بار بار دہرایا اور آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے رہے کہ غصہ مت کیا کرو۔
شرح
ایک صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گزارش کی کہ ان کو کوئی ایسی بات بتائيں، جو ان کے لیے سودمند ثابت ہو۔ لہذا آپ نے ان سے کہا کہ وہ غصہ نہ کیا کریں۔ یعنی ایک تو غصہ دلانے والی چیزوں سے بچیں اور دوسرا جب غصہ آجائے، تو اپنے اوپر قابو رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ غصے میں آکر قتل کر دیں، مار دیں یا گالی گلوج وغیرہ کرنے لگیں۔
اس صحابی نے کئی بار اپنی بات دہرائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہر بار بس اتنا کہا کہ تم غصہ نہ کیا کرو۔
حدیث کے فوائد
- اس حدیث میں غصہ اور غصہ دلانے والی چیزوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ کیوں کہ غصہ ساری برائیوں کی جڑ ہے اور اس سے بچے رہنا تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔
- اللہ کے لیے غصہ آنا، جیسے اللہ کے احکام کی پامالی پر غصہ آنا قابل تعریف چیز ہے۔
- ضرورت پڑنے پر بات کو دہرانا چاہیے، تاکہ سننے والا سمجھ جائے اور بات کی اہمیت ذہن میں بیٹھ جائے۔
- عالم سے وصیت کی گزارش کرنے کی فضیلت۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں