حدیث · 4503
سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا:
رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘، تو لوگوں نے کہا: روزہ دار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔‘‘، مسلم کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں: ’’اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو۔‘‘
شرح
رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے گرد لوگ جمع تھے اور دھوپ کی شدت اور پیاس کی کثرت کی وجہ سے اس پر سایہ کیا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ روزہ دار ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے، اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو“۔
حدیث کے فوائد
- شریعتِ اسلامیہ کی آسانی کا بیان۔
- سفر کے دوران روزہ رکھنے کا جواز، اور روزہ نہ رکھنے کی رخصت پر عمل کرنے کا جواز۔
- سفر میں اگر مشقت ہو تو روزہ رکھنا مکروہ ہے، لیکن اگر یہ ہلاکت کی حد تک پہنچ جائے تو حرام ہے۔
- نووی کہتے ہيں: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں اس سے مشقت ہو اور ضرر کا اندیشہ ہو، حدیث کا سیاق اسی تاویل کا تقاضا کرتا ہے۔
- نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام کا خیال رکھتے اور ان کی خبر گیری کرتے تھے۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں