حدیث · 4229

جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا…

عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «لما عُرِجَ بي مَرَرْتُ بقوم لهم أظْفَارٌ من نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُم فقلت: مَنْ هؤُلاءِ يا جِبْرِيل؟ قال: هؤلاء الذين يَأكُلُونَ لحُوم الناس، ويَقَعُون في أعْرَاضِهم!».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی عزتوں سے کھیلتے تھے“۔

حسن ماخذ: رواه أبو داود وأحمد

شرح

حدیث کا مفہوم: معراج کی رات جب نبی ﷺ کو آسمان پر لے جایا گیا تو آپ ﷺ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو اپنے تانبے سے بنے ناخنوں کے ذریعہ اپنے جسموں کو نوچ رہے تھے۔ آپ ﷺ کو ان کی اس حالت پر تعجب ہوا تو آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ لوگ کون ہیں اور وہ اپنے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو بتایا کہ یہ وہ ہیں جو لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے اور ان کی عزتوں پر حملہ آور ہوتے تھے۔

گناہوں کی مذمت

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات