حدیث · 4223

عبد الله بڑا ہی اچھا آدمی ہے۔ کاش وہ رات میں نماز بھی پڑھا کرتا۔

وعن سالم بن عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنهم عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « نِعْمَ الرَّجُلُ عبد الله، لو كان يُصلِّي من الليل» قال سالم: فكان عبد الله بعد ذلك لا يَنامُ من الليل إلا قليلًا.

سالم بن عبد اللہ بن عمربن خطاب رضی اللہ عنہم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عبد الله بڑا ہی اچھا آدمی ہے۔ کاش وہ رات میں نماز بھی پڑھا کرتا“۔ سالم کہتے ہیں کہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

نبی ﷺ نے بتایا کہ عبد اللہ بن عمر ایک نیک آدمی ہیں اور آپ ﷺ نے انہیں تہجد کی نماز پڑھنے کی ترغیب دی۔ چنانچہ (اس کے بعد سے) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔

نفل نماز

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات