حدیث · 4221

رسول اللہ ﷺ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ لایا گیا۔ آپ ﷺ کی دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ نے پی کر اسے اعرابی کو دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف…

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أَنَّ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلَبَنٍ قد شِيبَ بماءٍ، وعن يمينهِ أَعْرَابِيٌّ، وعن يَسَارِه أبو بكرٍ رضي الله عنه فَشَرِبَ، ثم أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ، وقال: «الأَيْمَنَ فَالأَيْمَنَ».

انس ابن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ لایا گیا۔ آپ ﷺ کی دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ نے پی کر اسے اعرابی کو دے دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والا زیادہ حق دار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہے“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

نبی ﷺ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ لایا گیا۔ آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک اعرابی آدمی تھا اور بائیں طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی ﷺ نے دودھ خود نوش کرنے کے بعد اعرابی کو دے دیا۔ اس نے برتن اٹھایا اور اسے پی لیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ اعرابی سے افضل تھے، لیکن نبی ﷺ نے اعرابی کو ترجیح دی کیوںکہ وہ آپ ﷺ کی دائیں جانب تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”االْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ“ یعنی دائیں طرف والے کو مقدم رکھو اور اسے دو اور پھر اس کے بعد جو اس کے دائیں جانب ہو، اسے دو۔

آپ ﷺ کا کھانا پینا

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات