حدیث · 4200
جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف…
معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی“۔
شرح
جو کوئی مسلمان اللہ کے راستہ میں تھوڑی دیر کے لیے بھی جہاد کرے گا، مثلاً اتنی دیر جہاد کیا جتنا کسی اونٹنی کو دوبارہ دوہنے کا وقفہ ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اونٹنی کو دوہا جاتا ہے پھر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ بچے کو دددھ پلائے، پھر دودھ چھاتی میں لوٹ آئے اس کے بعد دوبارہ اسے دوہا جائے، تو اس پر جنت واجب ہو جائے گی۔ اور جس کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم لگ جائے، مثلاً وہ گھوڑے کے اوپر سے گر کر زخمی ہو جائے یا تلوار وغیرہ کی ضرب لگ جائے، اگرچہ زخم ہلکا ہی کیوں نہ ہو، تو وہ قیامت کے صن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے کثرت کے ساتھ خون نکلے گا، مگر اس کا رنگ زعفرانی ہوگا اور اس کی خوشبو سب سے بہتر خوشبو یعنی مشک کی خوشبو کی مانند ہوگی۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں