حدیث · 3785

تم میں سے کوئی شخص اپنی رسیاں لے کر پہاڑ پر چڑھ جائے اور وہاں سے لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر لے آئے اور انھیں بیچ دے اور اس سے اللہ اسے مانگنے سے بچا لے، تو یہ…

عن الزبير بن العَوَّام رضي الله عنه مرفوعاً: «لأَن يأخذ أحدكم أُحبُلَهُ ثم يأتي الجبل، فيأتي بِحُزْمَة من حطب على ظهره فيبيعها، فَيَكُفَّ الله بها وجهه، خيرٌ له من أن يسأل الناس، أعْطَوه أو مَنَعُوه».

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنی رسیاں لے کر پہاڑ پر چڑھ جائے اور وہاں سے لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر لے آئے اور انھیں بیچ دے اور اس سے اللہ اسے مانگنے سے بچا لے، تو یہ اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے کہ لوگ چاہیں تو دیں یا نہ دیں“۔

صحیح ماخذ: رواه البخاري

شرح

آدمی اپنے ہاتھ سے کمائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، وہ چاہیں تو دیں اور چاہیں تو نہ دیں۔ اگر کوئی شخص اپنی رسی لے کر چراگاہوں، کھیتوں اور جنگلوں کی طرف نکل جاتا ہے اور لکڑیاں اکٹھی کر کے اور انھیں اپنی پیٹھ پر لاد کر لاتا ہے، پھر انھیں بیچتا ہے اور اس طرح سے اپنی عزت و شرافت کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے آپ کو مانگنے کی ذلت سے بچاتا ہے، تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے، چاہے وہ اسے دیں یا نہ دیں۔ لوگوں سے مانگنا ذلت ہے جب کہ مؤمن صاحب عزت ہوتا ہے، ذلیل نہیں۔

بیع وشراء

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات