حدیث · 3591
پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے:
”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔
شرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہیں کہ دن اور رات میں فرض پانچ نمازیں، ہر ہفتہ جمعے کی نماز اور ہر سال رمضان مہینے کے روزے، اس دوران کیے گئے چھوٹے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، شرط یہ ہے کہ بڑے گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ رہی بات بڑے گناہوں جیسے شراب نوشی اور زنا وغیرہ کی، تو یہ توبہ کے بغیر معاف نہيں ہوتے۔
حدیث کے فوائد
- گناہوں میں سے کچھ چھوٹے ہوتے ہیں اور کچھ بڑے۔
- چھوٹے گناہوں کی معافی کے لیے بڑے گناہوں سے اجتناب شرط ہے۔
- بڑے گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں، جن کے کرنے پر دنیا میں کوئی حد نافذ ہوتی ہو، یا آخرت سے متعلق عذاب یا اللہ کی ناراضگی کی وعید آئی ہو، یا اس کے کرنے پر کوئی دھمکی دی گئی ہو یا اس کے کرنے والے پر لعنت کی گئی ہو۔ جیسے شراب نوشی اور زنا وغیرہ۔
فضائل و آدابنیک اعمال کے فضائلنماز کی فضیلت
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں