حدیث · 3504

جو شخص اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہے: ”بِسم الله تَوَكَّلتُ على اللهِ، وَلاَ حول ولا قُوَّة إِلَّا بالله“ تو (اس وقت) اس سے کہا جاتا ہے تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر…

عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعًا: «من قال -يعني: إذا خَرج من بَيتِه-: بِسم الله تَوَكَّلتُ على اللهِ، وَلاَ حول ولا قُوَّة إِلَّا بالله، يُقَال له: هُدِيتَ وَكُفِيتَ وَوُقِيتَ، وَتَنَحَّى عَنه الشَّيطَان». زاد أبو داود: «فيقول -يعني: الشيطان- لِشَيطان آخر: كَيف لَك بِرَجلٍ قَد هُدِيَ وكُفِيَ ووُقِيَ؟».

انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہے: ”بِسم الله تَوَكَّلتُ على اللهِ، وَلاَ حول ولا قُوَّة إِلَّا بالله“ تو (اس وقت) اس سے کہا جاتا ہے: تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی اور تو بچا لیا گیا اور (یہ سن کر) شیطان اس سے پرے ہٹ جاتا ہے۔
ابو داود کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں:”اس پر ایک شیطان دوسرے سے کہتا ہے :اس آدمی پر تمہارا بس کیسے چلےگا جسے ہدایت دےدی گئی، جس کی طرف سے کفایت کر دی گئی اور جسے بچا لیا گیا؟“۔

صحیح ماخذ: رواه أبو داود والترمذي

شرح

رسول اللہ ﷺ نےبتایا کہ جب کوئی آدمی اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہتا ہے: ”باسم اللهِ، توَکَّلْتُ على اللهِ، لا حولَ ولا قوَّةَ إلا بالله“ تو ایک فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے: اے اللہ کے بندے!تجھے راہِ حق کی طرف ہدایت مل گئی، تیری پریشانی کا بار اٹھا لیا گیا اور تجھے دشمنوں سے محفوظ کر دیا گیا۔ ایسا کہنے پر اس پر متعین شیطان دور ہٹ جاتا ہے اور ایک دوسرا شیطان اس شیطان سے کہتا ہے: تم اس آدمی کو گمراہ کیسے کر سکتے ہو جسے ہدایت دے دی گئی، جس کی طرف سے اس کا بوجھ اٹھا لیا گیا اور اسے تمام شیطانوں سے بچا لیا گیا؟ چوں کہ اس نے یہ الفاظ کہہ دیے ہیں اس لیے اب تمہارا اس پر زور نہیں چلے گا۔

گھر میں داخل ہونے اور گھر سے نکلنے کی دعائیں

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات