حدیث · 3375

وہ لوگ سب سے برے لوگوں میں سے ہیں، جو قیامت کے وقوع کے وقت باحیات رہيں گے اور جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے“۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مسعودٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ، وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ».

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا :

”وہ لوگ سب سے برے لوگوں میں سے ہیں، جو قیامت کے وقوع کے وقت باحیات رہيں گے اور جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے“۔

حسن ماخذ: رواه أحمد

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سب سے برے لوگ کون ہیں؟ آپ نے بتایا کہ سب سے برے لوگ وہ لوگ ہيں، جو اس وقت باحیات رہیں گے، جب قیامت قائم ہوگی۔ اسی طرح سب سے برے لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں، جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے۔ یعنی قبروں کے پاس یا قبروں کی جانب منہ کرکے نماز پڑھیں گے۔

حدیث کے فوائد

  • قبروں پر مسجد بنانا حرام ہے، کیوں کہ اس سے شرک کے دروازے کھلتے ہيں۔
  • مسجد بنائے بغیر بھی قبروں کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے۔ کیوں کہ مسجد اس جگہ کا نام ہے، جہاں سجدہ کیا جائے، چاہے وہاں کوئی تعمیر نہ بھی ہو۔
  • نیک لوگوں کی قبروں کو، وہاں نماز پڑھنے کے ارادے سے مسجد بنانے والا سب سے برے لوگوں میں سے ایک ہے، چاہے اس کا دعوی اللہ کا تقرب حاصل کرنے ہی کا کیوں نہ ہو۔

علاماتِ قیامت

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات