حدیث · 3339
آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے تو اس کو آزمائش سے دوچار فرماتا ہے۔ پس جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو…
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے تو اس کو آزمائش سے دوچار کرتا ہے۔ پس جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے“۔
شرح
اس حدیث میں نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ مومن کو اس کے جان و مال وغیرہ میں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر وہ صبر کرے گا تو اللہ ان مصائب پر اسے ثواب دے گا اور یہ کہ مصیبت جتنی بڑی اور خطرناک ہوتی ہے اس پر اللہ کی طرف سے اتنا ہی بڑا ثواب ملتا ہے۔ پھر نبی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ مصائب کا آنا اللہ تعالیٰ کی مومن کے ساتھ محبت کی علامت ہے اور یہ کہ جو اللہ کی قضا و قدر میں لکھا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہنا ہے لیکن جو شخص صبر و رضا کا مظاہرہ کرتا ہے اسے اللہ تعالی اپنی رضا کے ساتھ نوازے گا اور اسے ثواب دے گا اور جو برہم ہوتا ہے اور اللہ کی قضا و قدر کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس پر برہم ہوتا ہے اور اسے سزا دیتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- مصیبتیں گناہوں کا کفّارہ بن جاتی ہیں، جب تک ان کی وجہ سے کوئی واجب نہ چھوڑا جائے جیسے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے یا کسی حرام کام کا ارتکاب نہ ہو، جیسے گریبان نہ پھاڑا جائے یا گال نہ پیٹا جائے۔
- اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے اس کی شان کے مطابق صفت محبت کا اثبات۔
- مؤمن کے لیے آزمائش ایمان کی نشانی ہے۔
- اللہ کے لیے رضامندی اور ناراضگی جیسے اوصاف کا اس کی شان کے مطابق اثبات۔
- اللہ کی قضا و قدر سے راضی رہنے کا استحباب۔
- اللہ کی قضا و قدر سے ناراضگی کا حرام ہونا۔
- مصائب پر صبر کرنے کی ترغیب۔
- انسان بسا اوقات کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے، حالاں کہ وہ اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے۔
- اللہ سبحانہ تعالیٰ کے افعال میں حکمت کا اثبات۔
- بدلے کا عمل کی جنس سے ہونا۔
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں