حدیث · 3162

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی مومن بندے سے، اہل دنیا میں سے اس کا کوئی عزیز لے لیتا ہوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے، تو اس کے لیے سوائے جنت کے میرے پاس…

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «يقول الله تعالى : ما لِعَبدِي المُؤمن عِندِي جَزَاء إِذَا قَبَضتُ صَفِيَّه مِنْ أَهلِ الدُّنيَا ثُمَّ احْتَسَبَه إِلاَّ الجنَّة».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی مومن بندے سے، اہل دنیا میں سے اس کا کوئی عزیز لے لیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے، تو اس کے لیے سوائے جنت کے میرے پاس کوئی اجر نہیں ہے“۔

صحیح ماخذ: رواه البخاري

شرح

اس حدیث قدسی میں نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے کسی قریبی عزیز وغیرہ سے محروم ہو جاتا ہےاور اپنے پسندیدہ شخص کی وفات پر صبر کرتا ہے۔ حالاںکہ وہ اس کا بہت قریبی تعلق والا ہوتا ہے، جیسے بچہ، بھائی، چچا، باپ، ماں اور دوست۔ کسی ایسے فرد کو اللہ تعالی اگر (موت دے کر) لے لے اور آدمی اس پر صبر کرے، تو جنت کے سوا اس کا کوئی بدلہ نہیں ہوتا۔

نیک اعمال کے فضائل

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات