حدیث · 3111

سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اورتم میں سے کوئی بھی شخص اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔

عن أَنَس بن مالك رضي الله عنه عَنْ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «اعْتَدِلُوا في السجود، ولا يَبْسُطْ أحدكم ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الكلب».

انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اور تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

نبی ﷺ نے سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ نمازی سجدے میں اچھی ہیئت اختیار کرے بایں طور کہ اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر ٹکا لے، اپنے بازوؤں کو اوپر اٹھا لے اور انھیں پہلوؤں سے دور رکھے۔ کیوں کہ یہ حالت نماز میں چستی اور دلچسپی کی غمازی کرتی ہے اور ا س اچھی ہیئت میں تمام اعضاء اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنے اپنے حصے کی عبادت سر انجام دے سکیں۔ سجدے میں بازوؤں کو بچھانے سے منع کیا گیا کیوں کہ یہ سستی اور اکتاہٹ کی دلیل ہے اور اس میں کتے کی مشابہت ہوتی ہے جو کہ ایک غیر مناسب مشابہت ہے۔

نماز کا طریقہ

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات