حدیث · 3045

جہاد کی ایک بہت بڑی شکل ظالم حکمراں کے سامنے انصاف کی بات کرنا ہے۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الجِهَادِ كَلِمَةَ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"جہاد کی ایک بہت بڑی شکل ظالم حکمراں کے سامنے انصاف کی بات کرنا ہے۔"

حسن ماخذ: رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک عظیم ترین اور نفع بخش ترین قسم کسی ظالم و جابر حکمراں کے سامنے انصاف اور حق کی بات کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے میں داخل ہے۔ اسے قول، تحریر، فعل یا کسی اور طریقے سے کیا جا سکتا ہے، جس سے مصلحت حاصل ہو جائے اور برائی سے بچا جا سکے۔

حدیث کے فوائد

  • بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی جہاد ہے۔
  • حکمراں کو نصیحت کرنا ایک عظیم ترین جہاد ہے، لیکن یہ کام علم و بصیرت اور حکمت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
  • خطابی کہتے ہيں : یہ افضل ترین جہاد اس لیے ہے کہ دشمن سے جہاد کرنے والے کے سامنے امید اور خوف دونوں چیزیں رہتی ہيں۔ اسے ہار جیت کا پتہ نہيں رہتا۔ جب کہ حکمراں کے سامنے حق بولنے والا اس کے زیر عتاب آ سکتا ہے۔ حکمراں کے سامنے حق گوئی اور امر بالمعروف کے فریضے کی انجام دہی ایک طرح سے خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ لہذا یہ خوف کے غلبے کی وجہ سے افضل ترین جہاد ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق اسے افضل ترین جہاد اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ حکمراں نے اگر بات مان لی، تو ہو سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ فیض یاب ہوں۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی فضیلت

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات