حدیث · 3021

یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جب تم میں سے کوئی وضو کرلے، تو سو سکتا ہے“۔

عن عبد الله بنِ عمر رضي الله عنهما أن عمرَ بْن الخطاب رضي الله عنه قال: ((يا رسول الله، أّيَرقُدُ أَحَدُنا وهو جُنُب؟ قال: نعم، إِذَا تَوَضَّأ أَحَدُكُم فَليَرقُد)).

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جب تم میں سےکوئی وضو کرلے، تو سو سکتا ہے“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر کسی شخص کو رات کے ابتدائی حصے میں جنابت لاحق ہو جائے، بایں طور کہ اپنی بیوی سے جماع کر لے، اگرچہ انزال نہ ہواہو یا اسے احتلام ہو جائے تو کیا وہ حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے انھیں اس کی اجازت دے دی، بشرطے کہ وہ شرعی طریقے سے وضو کر کے حدث اکبر کو کچھ کم کر لے۔ اس صورت میں جناب کی حالت میں سونے میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔

سونے اور بیدار ہونے کے آداب

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات