حدیث · 3013

جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے“۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ المُؤَذِّنُ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اذان سنتے وقت مؤذن کا جواب دینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ جواب میں ہمیں جملہ در جملہ وہی کچھ کہنا چاہیے، جو مؤذن کہتا ہو۔ جب وہ تکبیر کہے، تو ہم اس کے بعد تکبیر کہیں گے اور جب وہ دونوں گواہیاں پیش کرے، تو ہم اس کے بعد دونوں گواہیاں پیش کريں گے۔ لیکن "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کے الفاظ اس سے مستثنی ہیں۔ ان دونوں جملوں کے بعد "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہا جائے گا۔

حدیث کے فوائد

  • ایک مؤذن کی اذان ختم ہونے کے بعد دوسرے مؤذن کے کلمات کا بھی جواب دیا جائے گا۔ اگرچہ مؤذن متعدد ہوں، تب بھی۔ کیوں کہ حدیث عام ہے۔
  • انسان اگر بیت الخلا میں نہ ہو یا قضائے حاجت میں مشغول نہ ہو، تو دیگر تمام حالتوں میں وہ مؤذن کا جواب دے گا۔

اذان اور اقامت

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات