حدیث · 3000

ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑا ذبح کیا اور کھایا۔

عن أَسْمَاء بِنْت أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنهما قالت: «نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ». وَفِي رِوَايَةٍ «وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ».

اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ”ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑا ذبح کیا اور اُس کو کھایا“۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”ہم اس وقت مدینہ میں تھے“۔

صحیح ماخذ: متفق عليه

شرح

اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما بتا رہی ہیں کہ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا۔ اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ گھوڑوں کا گوشت کھانا جائز ہے۔ کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں انہیں گدھوں اور خچروں کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اس لیے ان کا کھانا ممنوع ہے۔ (وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لا تَعْلَمُونَ) [ النحل :8]۔

ترجمہ:”گھوڑوں کو، خچروں کو، گدھوں کو اس نے پیدا کیا تاکہ تم ان کی سواری لو اور وه باعثِ زینت بھی ہیں۔ اور بھی وه ایسی بہت چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں“۔

کون سے جانور اور پرندے حلال ہیں اور کون سے حرام ہیں۔ذبح کرنا

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات