حدیث · 11307

ام ورقہ بنت عبد اللہ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہا نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔

عن أُمِّ ورَقة بنت عبد الله بن الحارث الأنصارية، أنها كانت قد جَمعت القرآن، وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد أَمَرَهَا أن تَؤُمَّ أهل دارِها، وكان لها مُؤَذِّنٌ، وكانت تَؤُمُّ أهل دارها.

ام ورقہ بنت عبد اللہ بن حارث انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اپنے اہل خانہ کی امامت کریں۔ چنانچہ ان کا ایک موذن تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی امامت کیا کرتی تھیں۔

حسن ماخذ: رواه أبو داود وأحمد

شرح

ام ورقہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور نبی ﷺ نے انھیں حکم دیا تھا کہ وہ پانچوں نمازوں میں اپنے گھر والوں کی امام بنیں۔ ان کا ایک مؤذن تھا جو پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا تھا اور وہ اپنے گھر کی عورتوں کی امامت کیا کرتی تھیں کیوں کہ دار قطنی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: ”وتؤم نِسَاءها“ (گھر کی عورتوں کی امام کرے) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی امامت صرف عورتوں کی حد تک تھی۔

امام اور مقتدی سے متعلق احکام

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات