حدیث · 11278

جس آدمی کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں وتر پڑھ لے اور جس آدمی کو اس بات کی تمنا ہو کہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرے تو اسے…

عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من خاف أن لا يقوم من آخِرِ الليل فليوتر أوله، ومن طَمِعَ أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل، فإن صلاة آخر الليل مشهودة، وذلك أفضل».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”جس آدمی کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں وِتر پڑھ لے اور جس آدمی کو اس بات کی تمنا ہو کہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرے تو اسے چاہیے کہ وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ اس کے لیے افضل ہے“۔

صحیح ماخذ: رواه مسلم

شرح

اس حدیث سے وِتر کی نماز کو رات کے اول حصہ میں پڑھ لینے کا جواز معلوم ہوتا ہے اور یہ جواز اس شخص کے حق میں بدرجہ اَوْلی ہے جسے اس بات کا خوف ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو کر وتر نہیں پڑھ سکے گا، اسی طرح رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو کر وتر پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے، کیونکہ اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔

قیام اللیل

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات