حدیث · 11271

اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (طاق یعنی یکتا) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے۔

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «يا أهل القرآن، أوتروا؛ فإن الله وتر، يحب الوتر».

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (طاق یعنی یکتا) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے“۔

صحیح ماخذ: رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد

شرح

اس حديث شريف ميں اہل قرآن جو اللہ کے خاص بندے ہوتےہيں، انہيں حکم ديا گيا ہے کہ وتر کی نماز پڑھا کريں، کيونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور افعال ميں يکتا اور تنہا ہے، وتر کو پسند فرماتاہے۔

اہل قرآن سے مراد تمام مومنين ہيں جو قرآن کےقاری ہيں اور جو قرآن کے قاری نہيں ہيں وہ بھی مراد ہيں، گرچہ قراء حضرات حفظِ قرآن کی وجہ سےاس خطاب کے زيادہ حقدار ہيں۔ علامہ خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہيں: اہل قرآن سے مراد حفّاظِ قرآن اور قراء ہيں،اور ان کا خصوصی ذکر ان کی اہميت اور شرف ومنزلت کی وجہ سے کيا گيا ہے، لہذا اہل قرآن کو خصوصی طور پر وتر کا اہتمام کرنا چاہيے، اگرچہ يہ تمام مومنين سے مطلوب ہے، ليکن اہل قرآن کو عام لوگوں پر فوقيت اور برتری حاصل ہے، کيونکہ وہ ان کے ليے اسوہ اور نمونہ ہوتے ہيں اوران کے پاس وہ علم ہوتا ہے جس سے دوسرے لوگ محروم ہوتے ہيں، جو ان کے لیے طاعات وعبادات ميں مسابقت اور بڑھ چڑھ کر حصہ لينے کا داعيہ (محرک) ہوتا ہے، اس لیے ان کی بابت یہ حکم زیادہ تاکید اور اہمیت رکھتا ہے۔

قیام اللیل

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات