حدیث · 10994
بنی آدم میں سے جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کی ولادت کے وقت اسے کچوکے لگاتا ہے اور وہ شیطان کے کچوکے سے چیخ کر رو دیتا ہے۔ البتہ مریم اور ان کا بیٹا دونوں اس سے مستثنی ہیں
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: "بنی آدم میں سے جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کی ولادت کے وقت اسے کچوکے لگاتا ہے اور وہ شیطان کے کچوکے سے چیخ کر رو دیتا ہے۔ البتہ مریم اور ان کا بیٹا دونوں اس سے مستثنی ہیں"۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے تھے: {وإنِّي أُعِيذُها بك وذُرِّيَّتَها من الشَّيطان الرَّجِيمِ} یعنی میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
شرح
جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کے پہلو میں کچوکے لگاتا ہے اور بچہ چیخ کر رو دیتا ہے۔ ولادت کے ٹھیک بعد بچے کے رونے کا سبب شیطان کا یہی کچوکا ہے جو وہ اسے لگاتا ہے۔لیکن مریم اور ان کے بیٹے عیسی علیہما السلام اس سے مستثنی ہیں۔ اللہ نے دونوں کو ولادت کے وقت شیطان کے کچوکے سے محفوظ رکھا۔ کیونکہ مریم کی ماں نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی تھی: {وإنِّي أُعِيذُها بك وذُرِّيَّتَها من الشَّيطان الرَّجِيمِ} (میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔) چنانچہ اللہ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے, رحمت الہی سے دور کئے ہوئے شیطان کے کچوکے سے, مریم اور ان کے بیٹے عیسی علیہما السلام کو, محفوظ رکھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شیطان کا یہ چھونا یا کچوکا لگانا حقیقی معنی پر محمول ہے۔ اس کے معنی شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کى لالچ کرنا نہیں ہے، جیسا کہ بعض معتزلہ کا دعوی ہے۔ صاف ستھری بات یہ ہے کہ اس پر اس کے حقیقی معنوں کے مطابق ہی ایمان رکھنا ضروی ہے۔ یہی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔
سابقہ انبیاء اور رسول علیہم السلام
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Bahasa Indonesia · فارسی
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں