حدیث · 10976

مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دیدار کی سعادت اس وقت حاصل ہوئی، جب آپ نے (اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ میں پڑا ہوا) پردہ اٹھایا۔ اس وقت لوگ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے…

عن أنس رضي الله عنه قال: «آخِرُ نَظْرة نَظَرْتُها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم كَشَف السِّتارة والناسُ صُفوف خَلْف أبي بكر رضي الله عنه ، فأراد أبو بكر أنْ يَرْتَدَّ، فأشار إليهم أَنِ امكثُوا وأَلْقى السِّجْفَ، وتُوفِّي مِن آخِرِ ذلك اليوم، وذلك يومَ الإثنين».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و لم کے آخری دیدار کی سعادت اس وقت حاصل ہوئی، جب آپ نے (اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ میں پڑا ہوا) پردہ اٹھایا۔ اس وقت لوگ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ کو دیکھ کر ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو آپ نے لوگوں کو اس بات کا اشارہ کرنے کے بعد کہ اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے رہو، پردہ ڈال دیا اور اسی دن کے آخری حصے میں آپ کى وفات ہوگئی, اور وہ دن سوموار کا تھا"۔

صحیح ماخذ: رواه النسائي, وأصله في مسلم

شرح

انس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری بار اس وقت دیکھا، جب آپ نے اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ پڑے ہوئے پردے کو اٹھایا اور لوگوں کو ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلنا چاہتے ہيں، اس لیے پیچھے ہٹ کر صف میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوچنے لگے، تاکہ آپ آئیں اور لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اشارے سے حکم دیا کہ وہ اپنی اپنی جگہوں میں رہ کر نماز پوری کریں۔ پھر آپ نے پردہ گرا دیا اور اسی دن کے آخری حصے میں آپ کی وفات ہو گئی۔ اور وہ سوموار کا دن تھا۔

آپ ﷺ کی وفات

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Bahasa Indonesia · فارسی

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات