حدیث · 10881

میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ہٹا دو۔ کیوںکہ اس پر نقش شدہ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہی ہیں۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان قِرَام لعائشة سَترت به جانب بَيتها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «أَمِيطِي عنَّا قِرَامَكِ هذا، فإنه لا تَزال تصاوِيُره تَعْرِض في صلاتي».

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رنگین باریک پردہ تھا، جسے انھوں نے اپنے گھر کے ایک حصے میں بطور پردہ لٹکا دیا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ہٹا دو۔ کیوںکہ اس پر نقش شدہ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہی ہیں“۔

صحیح ماخذ: رواه البخاري

شرح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک باریک اونی کپڑا تھا، جو مختلف رنگ اور نقش ونگار والا تھا، اس کے ذریعے عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے کے سوراخ کو بند کردیتی تھی، آپ ﷺ نے اسے ہٹانے کا حکم دیا اور اس کا سبب بھی بیان فرمایا کہ نماز کے دوران اس کے نقوش اور رنگ مسلسل سامنے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو خوف ہوا کہ کہیں یہ نماز میں کامل توجہ، اس کے اذکار میں غور وفکر، اس کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور اطاعت جیسے مقاصد سے غافل نہ کردے۔

نماز کی سنتیں

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات