حدیث · 10852
جب تک تمہارا دل لگا رہے تب تک قرآن پڑھتے رہو اور جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو۔
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تک تمہارا دل لگا رہے تب تک قرآن پڑھتے رہو اور جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو“۔
شرح
حدیث کا مفہوم: تب تک قرآن پڑھتے رہو جب تک تمہارا دل اس میں لگا رہے، اور جب اس کے معانی سمجھنے میں تمہارے مابین اختلاف پیدا ہونے لگے تو اس کے پاس سے اٹھ جاؤ تا کہ یہ اختلاف تمہیں شر میں مبتلا نہ کر دے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس کو تھام لو اور جب کوئی متشابہ آیت سامنے آ جائے جو اختلاف کا باعث ہوتی ہے تو اس میں مشغول ہونے سے احتراز کرو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ حکم ہو کہ جب تک دل متوجہ رہیں تب تک پڑھتے رہو اور جب دل اكتاہٹ کا شکار ہونے لگیں تو قرآن کی تلاوت چھوڑ دی جائے تا وقتیکہ نشاط اور توجہ دوبارہ لوٹ آئے جیسا کہ نماز کے بارے میں یہی حکم آیا ہے۔
پہلا احتمال زیادہ راجح ہے۔
قرآن کی قراءت اور اس کے حفاظ سے متعلق آداب
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں