حدیث · 10647

قبروں پر مت بیٹھو اور ان کی جانب منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔

عن أبي مَرْثَدٍ الغَنَوِيّ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا».

ابو مَرثَد غَنَوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

"قبروں پر مت بیٹھو اور ان کی جانب منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔"

صحیح ماخذ: رواه مسلم

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قبروں کے اوپر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔

اسی طرح قبروں کی جانب اس طرح منہ کرکے نماز پڑھنے سے منع کیا ہے کہ قبر نمازی کے قبلے کی جانب ہو۔ ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ شرک کا ذریعہ ہے۔

حدیث کے فوائد

  • قبرستان میں، قبروں کے بیچ یا قبروں کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے کی ممانعت۔ البتہ جنازے کی نماز اس سے مستثنی ہے، جیسا کہ سنت سے ثابت ہے۔
  • قبروں کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے سے ممانعت کی وجہ شرک کے دروازے کو بند کرنا ہے۔
  • اسلام نے قبروں کے بارے میں غلو سے کام لینے اور ان کی بے حرمتی کرنے دونوں سے منع کیا ہے۔ یہاں نہ افراط کی گنجائش ہے، نہ تفریط کی۔
  • مسلمان کی حرمت اس کی موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : "مرے ہوئے آدمی کی ہڈی کو توڑنا زندہ آدمی کی ہڈی کو توڑنے کی طرح ہے۔"

توحیدِ اُلوہیتنماز کے شرائط

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Deutsch · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات