حدیث · 10415

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مخلوق کوتاریکی میں پیداکیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا (یعنی اپنے نور کاپرتو) توجس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہوگیا اور جس پر نور نہ پڑا (تجاوز کرگیا) تو…

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ خلق خَلْقَه في ظُلْمة، فألقى عليهم من نوره، فمَن أصابه مِن ذلك النور اهتدى، ومَن أخطأه ضلَّ»، فلذلك أقول: جَفَّ القلم على علم الله.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا (یعنی اپنے نور کا پرتو) تو جس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہوگیا اور جس پر نور نہ پڑا (تجاوز کرگیا) تو وہ گمراہ ہوگیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر(تقدیر کا) قلم خشک ہو چکا ہے۔

صحیح ماخذ: رواه الترمذي وأحمد

شرح

اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پید ا کیا، پھر ان پر اپنے نور میں سےکچھ ڈالا۔ جس کو یہ نور مل گیا اسے جنت کی راہ مل گئی اور جس سے وہ نور چوک گیا اور تجاوز کر گیا اور اُس تک نور نہیں پہنچ سکا تو وہ گمراہ ہو گیا اور حق کے راستے سے بھٹک گیا۔ کیوں کہ ہدایت و گمراہی ہر دو کی توفیق اللہ کے علم میں ہے۔ اس نے روز اول سے جو فیصلے کر دیے ہیں ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آسکتا۔ اور قلم کا خشک ہو جانا اسی سے عبارت ہے۔

قضاء و قدر کے مراتب

یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں

متعلقہ احادیث

→ تمام احادیث اور موضوعات