حدیث · 10110
تمھارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمھارا کھانا کھائیں اور فرشتے تمھارے لیے دعائیں کریں۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ ﷺ نے اسے کھایا، پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: ”أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ“ یعنی تمھارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمھارا کھانا کھائیں اور فرشتے تمھارے لیے دعائیں کریں۔
شرح
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ خزرج کے سردار سعد بن عبادۃ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ ”چنانچہ وہ روٹی اور تیل لے کر آئے“ اس جملے میں اس چیز کو پیش کرنے کا بیان ہے، جو آسانی سے میسر ہو، یہ تہذیب کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے کھایا۔ پھر فرمایا یعنی کھانا کھانے کے بعد: ”أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ“ یعنی اللہ تمھیں اتنا ثواب دے، جتنا روزے دار کو افطار کرانے والے کا ہوتا ہے۔ یہ جملہ دعائیہ ہے۔ ”وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ“ ابرار جمع ہے ”بر“ کی، بمعنی متقی۔ ”وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ“ یعنی تمھارے لیے استغفار کریں۔
ملاقات کرنے اور اجازت چاہنے کے آدابدعا کے آداب
یہ حدیث دوسری زبانوں میں: Bosanski · English · العربية · Français · Türkçe · Bahasa Indonesia · فارسی · বাংলা
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔ ماخذ پر دیکھیں