ماخذ · 9 حدیث

ابن خزيمة

  1. کرسی قدم رکھنے کی جگہ ہے اور عرش کی وسعت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔صحیحرواه عبد الله بن أحمد في السنة، وابن خزيمة في التوحيد
  2. ابن عمر رضی اللہ عنہما (نماز میں سجدے میں جاتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔صحیحرواه ابن خزيمة
  3. نبیﷺ کی خدمت میں دو تہائی مد پانی پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے (دھونے کے لیے) اپنے بازو کو ملنا شروع کر دیاصحیحرواه ابن خزيمة وأحمد
  4. یہ سنت ہے کہ جب مؤذن صبح کی نماز میں ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہے تو اس کے بعد ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ کہے۔صحیحرواه ابن خزيمة والدارقطني والبيهقي
  5. میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔صحیحرواه ابن خزيمة
  6. نبی کریم ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز ”الحمد للہ رب العالمین“ کے ساتھ شروع کرتے تھے۔صحیحالرواية الأولى: متفق عليها. الرواية الثانية: "لا يجهرون" رواها أحمد والنسائي وابن خزيمة
  7. نبیﷺ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بد دعا کرتے، تو اس صورت میں قنوت پڑھتے، ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔صحیحرواه ابن خزيمة
  8. ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں آٹھ رکعات (نمازِ تراویح) اور وتر پڑھائی۔ اگلے دن ہم پھر مسجد میں اکٹھے ہوئے اور ہمیں امید تھی کہ رسول اللہﷺ ہماری طرف نکل کر (…حسنرواه ابن خزيمة
  9. جس نے صبح (صادق) سے پہلے وتر نہيں پڑھی تو اس کی وتر نہيں ہےصحیحرواه ابن خزيمة وابن حبان والحاكم

→ تمام احادیث اور موضوعات

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔