ماخذ · 324 حدیث

أبو داود

  1. زمین ساری کی ساری سجدہ گاہ ہے، سوائے قبرستان اور غسل خانے کے۔صحیحرواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وأحمد والدارمي
  2. مجھے مسجدوں کو بلند بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔صحیحرواه أبو داود
  3. میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں، جو مشرکوں کے بیچ رہتا ہوصحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي
  4. ساری تعریف اس اللہ کی، جس نے اس (ابلیس) کے مکر کو وسوسے کی طرف پھیر دیا۔صحیحرواه أبو داود والنسائي في الكبرى
  5. میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں، اس پر اس شخص نے کہا: تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہوصحیحرواه أبو داود والنسائي في الكبرى وأحمد
  6. جو شخص اپنے غصے کو پورا کرنے کی قدرت ہونے کے باجود اسے دبا لیتا ہے، اسے اللہ سبحانہ و تعالی روز قیامت سب مخلوق کے سامنے بلائیں گے اور اختیار دیں گے کہ جنت کی…حسنرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
  7. علی رضی اللہ عنہ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھاتو ’بِسْمِ اللَّهِ‘ کہا۔صحیحرواه أبو داود والترمذي وأحمد
  8. عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا: ہر جاوگر مرد اور عورت کو قتل کردو۔صحیحأثر عمر رواه أبو داود وأحمد. وأثر حفصة رواه مالك في «الموطأ» بلاغًا، ووصله البيهقي. وأثر جُنْدُب رواه البخاري في التاريخ الكبير
  9. نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں،…صحیحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
  10. اللہ تعالی حیادار ہے، پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے۔صحیحرواه أبو داود والنسائي
  11. طبیب صرف اللہ ہے جب کہ تم تو بس نرمی و مہربانی کرنے والے شخص ہو۔ اس کا طبیب تو وہ ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔صحیحرواه أبو داود وأحمد
  12. رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی…صحیحرواه أبو داود
  13. مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت کا ہے۔صحیحرواه أبو داود
  14. میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو (کان اور آنکھ پر) رکھا ہوا ہے۔صحیحرواه أبو داود
  15. آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔صحیحرواه أبو داود والنسائي الكبرى وأحمد
  16. اے میرے رب ! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر فرما ، میرے خلاف تدبیر نہ کر ۔ میری…صحیحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
  17. جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے۔صحیحرواه الترمذي وأحمد وأبو داود الطيالسي
  18. خون و مال سے متعلق جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان اقدار میرے پاؤں تلے ہیں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اورخانۂ کعبہ کی دربانی کے۔صحیحرواه أبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي وأحمد
  19. منتر، تعویذ اور ٹوٹکے سب شرک ہیں“۔صحیحرواه أبو داود وابن ماجه وأحمد
  20. سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو۔حسنرواه أبو داود والترمذي وأحمد
  21. ایسے کوئی دن نہیں ہیں، جن میں نیکی کے کام کرنا اللہ کے نزدیک ان دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے زیادہ محبوب ہو"۔ آپ کی مراد ذو الحجہ مہینہ کے ابتدائی دس دن ہیںصحیحرواه البخاري وأبو داود، واللفظ له
  22. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش…حسنرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
  23. اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایاصحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
  24. ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔صحیحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
  25. جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو، تو اپنی دائیں جانب سے شروع کرو۔صحیحرواه أبو داود واللفظ له، والترمذي وابن ماجه وأحمد
  26. میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر…صحیحرواه أبو داود والنسائي وأحمد
  27. اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، جب ان کی عمر سات سال ہو جائے اور انھیں اس کے لیے مارو، جب ان کی عمر دس سال ہو جائے اور ان کے بستر الگ الگ کر دو۔حسنرواه أبو داود
  28. سمندر کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے"۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
  29. جب پانی کی مقدار دو قلہ (دو بڑے بڑے گھڑوں کے برابر) ہو، تو وہ گندگی کو اثر انداز ہونے نہیں دیتا۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
  30. جب مکھی کسی کے (مشروب سے بھرے) برتن میں گر جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے (پر) میں شفاء ہوتی ہے۔صحیحرواه البخاري، والرواية الأخرى لأبي داود وأحمد

→ تمام احادیث اور موضوعات

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔