احادیث · 724 حدیث
فضائل و آداب
- تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان کی طرف سے بے خوف ہو، جسمانی اعتبار سے صحت مند ہو، ایک دن کی خوراک کا سامان اس کے پاس ہو، تو گویا اس کے لیے…حسنرواه الترمذي وابن ماجه
- اے الله! میں عاجزی، سُستی، بخیلی، بڑھاپے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔صحیحرواه مسلم
- اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں، یہ بہت بری ہم نشیں ہے اور میں خیانت سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، یہ بہت بری ہم راز ہےحسنرواه أبو داود والنسائي وابن ماجه
- کیا میں تمہیں کچھ ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے۔ اگر تمہارے اوپر پہاڑ برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تمہاری طرف سے اس کی ادائیگی کے…حسنرواه الترمذي وأحمد
- تکبر اور اترانا حرام ہے، اور ان کے برے انجام کا بیانصحیحمتفق عليه
- اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔صحیحرواه البخاري
- اے اللہ! میں عاجز ہونے ، سستی، بزدلی، بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔صحیحمتفق عليه. والرواية الثانية رواها البخاري دون مسلم
- اللہ کے رسول ﷺ جب سفر کرتے، تو سفر کی دشواری، لوٹنے کے وقت کے رنج و غم، خوش حالی کے بعد بدحالی، مظلوم کی بد دعا اور گھر بار اور مال میں بری صورت حال سے پناہ…صحیحرواه مسلم
- اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تو قافلہ بنتا ہے۔حسنرواه أبو داود والترمذي وأحمد ومالك
- تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف (نظرِ رحمت سے) دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا: ایک بوڑھا…صحیحرواه الطبراني
- جب تم ہریالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان اونٹوں کو زمین میں سے ان کا حق دو ( یعنی گھاس چرنے دو) اور جب تم خشک سالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان پر جلدی سفر کرو (…صحیحرواه مسلم
- رات کو سفر کیا کرو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔صحیحرواه أبو داود
- رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور رات کو کہیں ٹھہرتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح صادق سے کچھ دیر پہلے ٹھہرتے تو اپنا (داہنا) بازو کھڑا کرلیتے اور اپنا سر…صحیحرواه مسلم
- رسول الله ﷺ سفر کے دوران پیچھے رہتے، کمزور (کی سواری کو) کو آگے ہانکتے، (اگر وہ پیدل ہوتا تو اسے) اپنے پیچھے سوار کرتے اور اس کے لیے دعا کرتے۔صحیحرواه أبو داود
- رسول اللہ ﷺ سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے، تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: ”سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا…صحیحالرواية الأولى رواها مسلم، والرواية الثانية متفق عليها، والرواية الثالثة رواها مسلم
- اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے۔صحیحرواه أبو داود
- جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر ليٹنے كا اراده كرے تو پہلے اپنا بستر اپنی ازار کے اندرونی کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے (اس کی بے خبری…صحیحمتفق عليه
- اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے۔صحیحمتفق عليه
- دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے۔صحیححديث أبي هريرة متفق عليه. حديث جابر رواه مسلم
- اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے، آگ کے عذاب سے نیز مال داری اور محتاجی کے شر سے۔صحیحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه
- اللہ کے تقوی کو اپنائے رکھو اور ہر بلند جگہ پر اللہ اکبر کہو۔حسنرواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
- بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو آزاد کراؤ"۔صحیحرواه البخاري
- عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے۔حسنرواه الترمذي، وعنده: "والأرضين" بدل "والأرض"، وكذا: "معلم" بدل "معلمي"
- رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے…صحیححديث حذيفة: رواه التُرمذي وأحمد. حديث حفصة: رواه أبو داود والنسائي في الكبرى وأحمد. والزيادة في حديث حفصة
- نبی اکرم ﷺ جب چاند دیکھتے، تو یہ دعا پڑھتےتھے: ”اللّهمَّ أهِلَّهُ عليْنا بالأمْن والإيمان“ اے اللہ! اس چاند کو ہم پر، امن اور ایمان کے ساتھ طلوع فرما۔صحیحرواه الترمذي وأحمد والدارمي، وليس عندهم لفظة: "هلال رشد وخير"، وجاءت عند ابن ابي شيبة بسند مرسل
- جب ایک تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ ﷺ اٹھتے اور فرماتے: اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو۔حسنرواه الترمذي وأحمد
- ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو انہیں کچھ خراج دیا کرتا تھا اور آپ اس کا خراج کھانے کے کام میں لاتے تھے۔صحیحرواه البخاري
- نبی کریم ﷺ کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔صحیحرواه البخاري بنحوه
- جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے، تو ”سبحان الله“ کہتے تھے۔صحیححديث جابر -رضي الله عنه- رواه البخاري. حديث ابن عمر -رضي الله عنهما- رواه أبو داود
- جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے، تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔صحیحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔