احادیث · 24 حدیث

جہاد کے احکام اور مسائل

  1. سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہےصحیحرواه مسلم
  2. رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ خیر و بھلائی کی وصیت…صحیحرواه مسلم
  3. میں ضرور یہودیوں اور نصرانیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا، یہاں تک کہ مسلمان کے سوا کسی کو نہيں چھوڑوں گاصحیحرواه مسلم
  4. اللہ موسی علیہ السلام پر رحم کرے، انھیں اس سے زیادہ تکلیف پہنچائی گئی، تاہم انہوں نے صبر کیا۔صحیحمتفق عليه
  5. وہ جہنم میں ہے۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے گئے تو انہیں اس کے ہاں ایک چادر ملی جو اس نے (مال غنیمت سے) چرائی تھی۔صحیحرواه البخاري
  6. جس نے تیر اندازی کا فن سیکھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں، یا (فرمایا:) اس نے یقیناً نافرمانی کی.صحیحرواه مسلم
  7. جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ۔ اور جو اپنے گھر والوں کی حفاظت یا خون یا دین کے دفاع میں قتل ہو جائے وہ بھی شہید ہے۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وأحمد
  8. ایک سفر میں مشرکین کا کوئی جاسوس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔صحیحالرواية الأولى: متفق عليها. الرواية الثانية رواها مسلم
  9. جو شخص (میدانِ جہاد میں) کسی کو قتل کرے اور اس پر گواہی موجود ہو تو اس سے چھینا ہوا (مال) بھی اسی (قتل کرنے والے )کے لیے ہے۔صحیحمتفق عليه
  10. اے اولاد اسماعیل! تم تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ تیر انداز تھے۔صحیحرواه البخاري
  11. ہر گز نہیں، میں نے تو اسے مال غنیمت میں سے ایک چادر یا چوغہ چرانے کی وجہ سے آگ میں دیکھا ہے۔صحیحرواه مسلم
  12. اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی؟ کیا ایسا نہیں تھا کہ تم بکھرے ہوئے تھے اور اللہ نے میرے…صحیحمتفق عليه
  13. جنگ چال کا نام ہے۔صحیحمتفق عليه
  14. جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مالِ غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس کو اس کا دو تہائی اجر جلدی (یعنی اسی دنیا میں ) مل…صحیحرواه مسلم
  15. مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت پیچھے رہ جانے والوں (یعنی جہاد کے لیے نہ جانے والوں) پر اسی طرح لازم ہے جس طرح کہ ان کی ماؤں کی عزت و حرمت ان پر لازم ہے۔صحیحرواه مسلم
  16. ہمیں خیبر کے دن کھانے کی کچھ چیزیں حاصل ہوئیں، تو لوگ آتے اور اس میں سے اتنا لے کر چلے جاتے، جو ان کے لیے کافی ہوصحیحرواه أبو داود وأحمد
  17. رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔صحیحرواه أحمد والبيهقي
  18. نبی کریم ﷺ نے تیار کیے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی۔صحیحمتفق عليه
  19. رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے گھوڑے کو دو حصے دیے اور اس کے سوار کو ایک حصہ دیا۔صحیحمتفق عليه
  20. رسول الله ﷺ بعض سرایا کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے۔صحیحمتفق عليه
  21. بنی نضیر کے اموال وہ تھے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بغیر لڑائی کے عطا کیے تھے۔ مسلمانوں نے ان کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔صحیحمتفق عليه
  22. ہم سے پہلے مال غنیمت کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ پھر اللہ تعالی نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھتے ہوئے اسے ہمارے لیے جائز کر دیا۔صحیحمتفق عليه
  23. رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ جس وقت آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آ کر بتایا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے…صحیحمتفق عليه
  24. اس کے بدلے میں تیرے لیے قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ہیں اور سب نکیل ڈلی ہوئی ہوں گی۔صحیحرواه مسلم

→ تمام احادیث اور موضوعات

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔