احادیث · 1,092 حدیث
فقہ و اصولِ فقہ
- نبی ﷺ نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت فرمائی۔صحیحمتفق عليه، وهذا لفظ البخاري
- رسول اللہ ﷺ ہم ازواجِ مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ایسا دن کم ہی گزرتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں اور بجز جماع کے…حسنرواه أبو داود وأحمد
- باغ قبول کرلو اور اسے ایک طلاق دے دو۔صحیحرواه البخاري
- عہد رسالت مآبﷺ اور ابو بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی دورِ خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک (ایک مجلس کی) تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں۔ پھر سیدنا عمر…صحیحرواه مسلم
- عبد بن یزید نے جو رُکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا ـــــــ اُم رکانہ کو طلاق دے دی اور ایک عورت جو مزینہ کے قبیلے میں سے تھی اس سے نکاح کیا، وہ عورت رسول…حسنرواه أبو داود
- تم نے سنت کے خلاف طلاق دی ہے اور سنت کے خلاف رجعت کی ہے، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا۔صحیحرواه أبو داود وابن ماجه
- (ایلا کرنے کے بعد) جب چار مہینے گذر جائیں، تو ایلا کرنے والے کو روک دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ طلاق دے دے۔صحیحرواه البخاري
- اہلِ جاہلیت کا ’ایلاء‘ سال یا دو سال کے لیے ہوا کرتا تھا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے اس کی مدت معین کر دی۔ چنانچہ جس شخص کا ایلاء چار ماہ سے کم ہوا وہ ایلاء شمار…صحیحرواه البيهقي وسعيد بن منصور والطبراني
- نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے اپنی بیوی سے ’ظِہار‘ کر رکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ جماع کر بیٹھا۔حسنرواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه
- ظہار سے متعلق سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کی حدی�حسنرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد والدارمي
- اس عورت پر نظر رکھو۔ اگر وہ گورا چٹا، سیدھے بالوں اور سرخی مائل ڈھیلی آنکھوں والا بچا جنتی ہے تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا اور اگر وہ سرمئی آنکھوں، گھنگھریالے…صحیحرواه مسلم
- عویمر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری سے آ کر کہنے لگے: اے عاصم ! ذرا بتاؤ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی (اجنبی) شخص کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے، پھر اس…صحیحمتفق عليه
- جب بندہ پلک جھپکنے کی حد تک بھی کسی بچے سے اپنے نسب کا اقرار کرے تو پھر اس سے نفی کرنا جائز نہیں ہے۔حسنرواه البيهقي
- کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو۔صحیحرواه مسلم
- اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہو جائے، کہتی ہیں:پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کیے۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه ومالك والدارمي وأحمد
- فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے ہاں کوئی (چور یا فاجر و فاسق شخص)…صحیحرواه مسلم
- ہم پر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط ملط نہ کرو، ام ولد کی عدت جب اس کے مالک کی وفات ہو جائےتو چار ماہ دس دن ہے۔صحیحرواه أبو داود وابن ماجه ومالك وأحمد
- عائشہ رضی اللہ عنہہا نے اپنی(بھتیجی) عبدالرحمٰن کی بیٹی حفصہ کو جب کہ (وہ تین طہر گزار چکیں) اور تیسرا حیض شروع ہوا تو حکم دیا کہ وہ مکان بدل لیں۔صحیحرواه مالك
- غلام کی آزاد عورت کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس عورت کی عدت تین حیض ہے جب کہ آزاد کی لونڈی کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔صحیحرواه الدارقطني، وهو عند البيهقي وعبد الرزاق بمعناه
- کسی حاملہ عورت سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ زچگی نہ ہو جائے اور غیر حاملہ سے بھی اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ اس کو ایک حیض نہ آجائے۔صحیحرواه أبو داود وأحمد والدارمي
- تم (سالم کو) دودھ پلا دو ، تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ (کراہت) جو ابو حذیفہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی۔صحیحرواه مسلم
- تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے۔حسنرواه أبو داود وأحمد
- یہ تیرا باپ ہے، اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے جس کا ہاتھ چاہے پکڑ لے۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
- بوجہِ اسلام ماں باپ کے مابین جدائی ہونے کے موقع پر بچے کو اختیار دینے کے بارے میں رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کی حدیث۔صحیحرواه أبو داود والنسائي وأحمد
- رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس کو بھی کوئی زخم آئے تو وہ اس وقت تک قصاص نہ لے جب تک اس کا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا۔ جب زخم ٹھیک ہو جائے تو اپنا بدلہ لے لے۔صحیحرواه أحمد
- کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کرقسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کردیتا۔صحیحمتفق عليه واللفظ للبخاري
- جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے ( اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا ڈنڈے بازی ہوئی ہو تو اس کی دیّت قتلِ خطا والی…صحیحرواه أبو داود والنسائي وابن ماجه
- یہ اور یہ برابر ہیں، یعنی چھنگلی اور انگوٹھا۔صحیحرواه البخاري
- جس نے طبیب ہونے کا دعوی کیا حالانکہ وہ طب کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا تو وہ (نقصان کی صورت میں) تاوان بھرے گا۔حسنرواه أبو داود والنسائي وابن ماجه
- مُعاہِد کی دیت آزاد (مسلمان) کی دیت کا نصف ہے۔حسنرواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔