احادیث · 1,092 حدیث
فقہ و اصولِ فقہ
- اس نے اپنے ہاتھ خیر سے بھر لیے ہیں۔حسنرواه أبو داود وأحمد
- نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو مزید سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا…صحیحمتفق عليه
- ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے۔ ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ الٓم :تنزيل (السجدہ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی…صحیحرواه مسلم
- میں نے رسول کریم ﷺ سے زیادہ مشابہت والی نماز فلاں شخص کے علاوہ کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، چنانچہ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی…صحیحرواه النسائي وأحمد
- میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے ہوۓ سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے ﴿ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ، أَمْ خَلَقُوا…صحیحمتفق عليه
- لوگو ! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جائے گا۔ خبردار رہو ! بلاشبہ مجھے رکوع…صحیحرواه مسلم
- رسول اللہ ﷺ کی نماز آپ کا رکوع کرنا، رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، نیز دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔صحیحرواه مسلم
- نبی ﷺ رکوع کرتے وقت اپنی انگلیاں کشادہ کر لیتے اور سجدہ کرتے وقت اپنی انگلیاں سمیٹ لیا کرتے تھے۔صحیحرواه ابن حبان
- جب نبی ﷺ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔صحیحرواه البخاري
- نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی۔ جس میں آپ ﷺ بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کر رہے تھے۔صحیحمتفق عليه
- نبیﷺ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بد دعا کرتے، تو اس صورت میں قنوت پڑھتے، ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔صحیحرواه ابن خزيمة
- اے ابا جان! آپ نے تو رسول اللہ ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمررضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ اور یہاں کوفہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے تقریبا پانچ سال تک نماز پڑھی…صحیحرواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
- جب(نماز میں )بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پراور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اوراپنا…صحیحرواه مسلم
- رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔صحیحرواه مسلم
- اگر استطاعت ہے تو زمین پر نماز پڑھو ورنہ اشارے سے پڑھ لو اور سجدے میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکو۔صحیحرواه البيهقي والبزار
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک رات قرآن کی ایک آیت سے قیام کیاصحیحرواه الترمذي
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پرانے اور بوسیدہ کجاوے اور اس پر بچھی ہوئی ایک ایسی چادر پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی قیمت چادر درہم تھی یا اتنی بھی نہیں…صحیحرواه ابن ماجه
- میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہےصحیحمتفق عليه
- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، تو وہ دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ”سبحان اللہ“ کہا، تو انھوں نے بھی ”سبحان اللہ“ کہا اور کھڑے رہے۔ جب…صحیحرواه أبو داود والترمذي وأحمد والدارمي
- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ پڑھی اور اس میں سجدہ کیا، پھر جب سلام پھیرا تو انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سورت…صحیحمتفق عليه
- میں نے آپ ﷺ کے سامنے سورۃ النجم پڑھی، آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔صحیحرواه البخاري
- میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ: کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں، اور جو ان دو سجدوں کو نہیں کرنا چاہتا اسے چاہیے کہ وہ ان دو آیات…صحیحرواه أبو داود
- آپ ﷺ کو جب کوئی خوش کن بات پیش آتی ہے یا پھر کوئی خوش خبری سنائی جاتی تو آپ ﷺ اللہ کے شکر میں سجدہ ریز ہو جاتے۔صحیحرواه أبو داود وابن ماجه والترمذي وأحمد
- مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو۔صحیحرواه البخاري
- ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، کہ رات کی نماز کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’دو دو رکعت کر کے (پڑھو)صحیحمتفق عليه
- وتر حق ہے؛ جو چاہے سات پڑھ لے، جو چاہے پانچ پڑھ لے، جو چاہے تین پڑھ لے اور جو چاہے ایک پڑھ لے۔صحیحرواه النسائي وأبو داود وابن ماجه
- ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں آٹھ رکعات (نمازِ تراویح) اور وتر پڑھائی۔ اگلے دن ہم پھر مسجد میں اکٹھے ہوئے اور ہمیں امید تھی کہ رسول اللہﷺ ہماری طرف نکل کر (…حسنرواه ابن خزيمة
- اے عبداللہ! تم فلاں شخص کی طرح نہ ہونا، وہ رات کو قیام کرتا تھا، پھر اس نے (اکتاکر) رات کا قیام چھوڑ دیاصحیحمتفق عليه
- اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (طاق یعنی یکتا) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
- ایک رات میں دو وتر نہیں۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وأحمد
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔