احادیث · 10 حدیث

دعا کی قبولیت کے اسباب اور اس کے موانع

  1. بے شک اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے۔صحیحرواه مسلم
  2. بے شک اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے۔صحیحرواه مسلم
  3. بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت ميں ہوتا ہے، لہٰذا تم (سجدے میں) خوب دعا کیا کرو“۔صحیحرواه مسلم
  4. رب تعالی بندے کے سب سے نزدیک رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي
  5. اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي
  6. تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں، مظلوم کی دعا۔حسنرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
  7. رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جو کسی مسلمان کو میسر آجائے اور وہ اس میں دنیا اور آخرت کے معاملے میں کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سےضرور نوازتا ہے،…صحیحرواه مسلم
  8. دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا (فرمایا) کم ہی رد کی جاتی ہیں، اذان کے وقت کی دعا اور لڑائی کے وقت کی دعا جب کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جائیں۔صحیحرواه أبو داود
  9. اس نے اللہ سے، اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے ،تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه
  10. مظلوم کی بد دعا سے بچو، یہ آگ کی چنگاریوں کی مانند آسمان کی طرف اٹھتی ہے۔صحیحرواه الحاكم

→ تمام احادیث اور موضوعات

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔