احادیث · 21 حدیث
سفر کے آداب اور احکام
- اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے ۔ بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے۔صحیحمتفق عليه، واللفظ للبخاري
- انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھےصحیحمتفق عليه
- رسول الله آ اپنی اونٹنی پر نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے، چاہے اس کا رخ جس جانب بھی ہوتا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔صحیحالروايات الثلاثة الأولى متفق عليها. الرواية الرابعة: رواها البخاري
- ایک وقت ہم سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک شخص اپنی سواری پر سوار ہوکر آیا۔صحیحرواه مسلم
- کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ ایک دن اور رات کا سفر بغیر کسی محرم کے کرے“۔صحیحمتفق عليه
- جب تین آدمی سفر پر نکلیں تو انھیں چاہیے کہ وہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لیں۔حسنحديث أبي سعيد رضي الله عنه رواه أبو داود. حديث أبي هريرة رضي الله عنه رواه أبو داود أيضًا
- میں تیرا دین، تیری امانت اور تیری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔صحیحالحديث الأول: رواه أبو داود، والتَرمذي واللفظ له، وابن ماجه والنسائي في الكبرى وأحمد. الحديث الثاني: رواه أبو داود والنسائي الكبرى
- سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔صحیحمتفق عليه
- رسول اللہ ﷺ نے دشمن کے علاقے میں قرآن کریم لے جانے سے منع فرمایا ہے۔صحیحمتفق عليه
- اللہ کے رسول ﷺ جب سفر کرتے، تو سفر کی دشواری، لوٹنے کے وقت کے رنج و غم، خوش حالی کے بعد بدحالی، مظلوم کی بد دعا اور گھر بار اور مال میں بری صورت حال سے پناہ…صحیحرواه مسلم
- اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تو قافلہ بنتا ہے۔حسنرواه أبو داود والترمذي وأحمد ومالك
- جب تم ہریالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان اونٹوں کو زمین میں سے ان کا حق دو ( یعنی گھاس چرنے دو) اور جب تم خشک سالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان پر جلدی سفر کرو (…صحیحرواه مسلم
- رات کو سفر کیا کرو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔صحیحرواه أبو داود
- رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور رات کو کہیں ٹھہرتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح صادق سے کچھ دیر پہلے ٹھہرتے تو اپنا (داہنا) بازو کھڑا کرلیتے اور اپنا سر…صحیحرواه مسلم
- رسول الله ﷺ سفر کے دوران پیچھے رہتے، کمزور (کی سواری کو) کو آگے ہانکتے، (اگر وہ پیدل ہوتا تو اسے) اپنے پیچھے سوار کرتے اور اس کے لیے دعا کرتے۔صحیحرواه أبو داود
- رسول اللہ ﷺ سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے، تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: ”سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا…صحیحالرواية الأولى رواها مسلم، والرواية الثانية متفق عليها، والرواية الثالثة رواها مسلم
- اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے۔صحیحرواه أبو داود
- اللہ کے تقوی کو اپنائے رکھو اور ہر بلند جگہ پر اللہ اکبر کہو۔حسنرواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
- جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے، تو ”سبحان الله“ کہتے تھے۔صحیححديث جابر -رضي الله عنه- رواه البخاري. حديث ابن عمر -رضي الله عنهما- رواه أبو داود
- بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔صحیحرواه أبو داود
- ہم آپ ﷺ سے ملاقات کرنے بچوں کے ساتھ ثنية الوداع گئے۔صحیحرواه البخاري وأبو داود. الرواية الأولى لفظ أبي داود. الرواية الثانية لفظ البخاري
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔