احادیث · 34 حدیث

صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل

  1. تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت…صحیحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
  2. ایسا شخص ہرگز جہنم میں داخل نہيں ہو سکتا، جو بدر اور حدیبیہ میں شریک رہا ہوصحیحرواه أحمد، وأصله في صحيح مسلم
  3. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: "نبیوں اور رسولوں کو چھوڑ کر یہ دونوں تمام اگلے اور پچھلے ادھیڑ عمر جنتیوں کے…صحیحرواه الترمذي
  4. جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: آپ اپنے یہاں اہل بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: وہ (ہمارے ہاں ) سب سے بہتر مسلمانوں میں…صحیحرواه البخاري
  5. کیا میں اُس شخص سےحیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاکرتے ہیں؟!صحیحرواه مسلم
  6. ہر اُمت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے میری امت! ہمارے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔صحیحمتفق عليه
  7. میں اس وجہ سے نہیں رو رہی کہ مجھے علم نہیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے زیادہ بہتر ہے؛ بلکہ میں تو اس وجہ سے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی آنے…صحیحرواه مسلم
  8. کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو (ہمیں) قرآن اور سنت کی تعلیم دیں۔ آپ نے ان کے ساتھ ستّر (70) انصاری…صحیحمتفق عليه
  9. عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اولین کے لئے چار ہزار وظیفہ مقرر کیا۔صحیحرواه البخاري
  10. اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن چڑھ نہ سکے تو آپ ﷺ نے اپنے نیچے طلحہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اوپر چڑھنے…حسنرواه الترمذي وأحمد
  11. اللہ کی قسم! تمھارے ذریعے سے کسی ایک آدمی کا ہدایت یافتہ ہو جانا تمھارے لیے (بیش قیمت) سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔صحیحمتفق عليه
  12. ایک شخص نے آپ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔صحیحمتفق عليه
  13. رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاۓ ہوتے۔ آپ ﷺ پانی کے ذریعے استنجا کرتے تھے۔صحیحمتفق عليه
  14. میں نے آپ کو قبلہ کی بجائے دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اگر میں رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا۔صحیحمتفق عليه
  15. اس شخص نے عمل تو کم کیا لیکن اسے اجر بہت زیادہ دیا گیا۔صحیحمتفق عليه
  16. اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی؟ کیا ایسا نہیں تھا کہ تم بکھرے ہوئے تھے اور اللہ نے میرے…صحیحمتفق عليه
  17. بہت خوب! یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ…صحیحمتفق عليه
  18. اہل کوفہ نے سعد یعنی ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر کے عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا…صحیحمتفق عليه
  19. کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کرقسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کردیتا۔صحیحمتفق عليه واللفظ للبخاري
  20. میں نے انصار کو دیکھا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کچھ ایسا کرتے تھے کہ میں نے قسم کھا لی کہ جب ان میں سے کسی کی صحبت نصیب ہوگی، میں اس کی خدمت کروں گا۔صحیحمتفق عليه
  21. جس طرح رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے میں بالکل اسی طرح تمھیں نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔صحیحمتفق عليه
  22. تم ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک یعنی حقیر ہیں جب کہ ہم لوگ رسول الله ﷺ کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاکت خیز کام شمار کرتے تھے۔صحیحرواه البخاري
  23. میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔صحیحمتفق عليه
  24. نبی ﷺ کے صحابہ میں سے دو آدمی آپ ﷺ کے پاس سے ایک تاریک رات میں نکلے اور ان کے آگے دو چراغوں کی مانند کچھ تھا۔صحیحرواه البخاري
  25. انس رضی اللہ عنہ کی والدہ نے ان سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا راز ہر گز کسی کو نہ بتانا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم اے ثابت! اگر میں وہ راز کسی کو…صحیحرواه مسلم وروى البخاري بعضه مختصرا
  26. ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر (رضی اللہ عنہ) ہیں۔صحیحمتفق عليه
  27. زبیر میری پھوپھی کا بیٹا ہے اور میری امت میں سے میرا حواری ہے۔صحیحرواه أحمد
  28. میں آج رسول اللہ ﷺ کے دربان کی ذمہ داری سر انجام دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے دروازے کو دھکیلا، تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟…صحیحالرواية الأولى: متفق عليها: البخاري: (ج5/8، ح3674) واللفظ له (ج5/13، ح3695) (ج9/54، ح7097). مسلم: (ج4/1868، ح2403). الرواية الثانية: الزيادة الأولى: "وَأَمَرَنِي رسُول الله صلَّى الله عليه وسلَّم بِحفظِ البابِ" أخرجها البخاري في صحيحه: (ج9/89، ح7262). وأما الزيادة الثانية: "أنَّ عُثمَانَ حِينَ بَشَّرَهُ حَمِدَ الله تَعَالَى، ثُمَّ قَالَ: اللهُ الْمُسْتَعَانُ"، فقد أخرجها البخاري أيضا: (ج8/48، ح6216)
  29. میں نے جب بھی عمر رضی اللہ عنہ کو (کسی مسئلہ میں رائے دیتے ہوئے) یہ کہتے سنا کہ میرے خیال میں یہ ایسے ہے تو وہ بات ویسے ہی نکلتی جیسے آپ کا خیال ہوتا۔صحیحرواه البخاري
  30. اللہ عزّ وجلّ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ”لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا“ پڑھ کر سناؤں۔صحیحمتفق عليه. الرواية الثانية: رواها البخاري

→ تمام احادیث اور موضوعات

متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔