احادیث · 184 حدیث
شرعی آداب
- تم میں سے کوئی بھی کھڑے ہو کر نہ پیے اور اگر بھول کر پی بیٹھے، تو قے کر دےصحیححديث أنس رضي الله عنه: رواه مسلم. حديث أبي هريرة رضي الله عنه: رواه مسلم
- رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے اور گھڑے کو منہ لگا کر اُن سے پانی پینے سے منع فرمایا۔صحیححديث أبي هريرة رضي الله عنه: رواه البخاري حديث ابن عباس رضي الله عنهما:متفق عليه
- رسول اللہ ﷺ نے مشکوں کا منہ موڑ کر ان سے پانے پینے سے منع فرمایا۔صحیحمتفق عليه
- رسول اللہ ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔صحیحرواه الترمذي وأحمد ومالك والدارمي
- میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ میری ازار لٹک رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! اپنی ازار اونچی کرو“ میں نے اسے اوپر اٹھا لیا پھر آپ ﷺ نے…صحیحرواه مسلم
- مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک وہ جنت کے تازہ پھلوں کے چننے میں مصروف رہتا ہے۔صحیحرواه مسلم
- رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا۔ آپ ﷺ کے دائیں جانب ایک لڑکا تھا۔صحیحمتفق عليه
- کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ وہ نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے۔صحیحمتفق عليه. الرواية الأولى لفظ البخاري مع زيادة في أوله. الرواية الثانية لفظ مسلم
- میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، درآں حالے کہ آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔صحیحرواه مسلم بزيادة: بكرسي حسبت قوائمه حديداً
- ان کا گزر چند بچوں کے پاس سے ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا اور فرمایا: نبی ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔صحیحمتفق عليه
- نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو کسی کی تعریف کرتے سنا، وہ اس کی تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ہلاک کردیا یا فرمایا تم نے اس آدمی کی کمر توڑدی ہے۔صحیحمتفق عليه
- افسوس! تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی!صحیحمتفق عليه
- رسول اللہ ﷺ نے دشمن کے علاقے میں قرآن کریم لے جانے سے منع فرمایا ہے۔صحیحمتفق عليه
- تکبر اور اترانا حرام ہے، اور ان کے برے انجام کا بیانصحیحمتفق عليه
- اے ابو الحسن! آج رسول اللہ ﷺ نے کیسے صبح کی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا: الحمد للہ، آج رسول اللہ ﷺ نے صحت یابی میں صبح کی ہے۔صحیحرواه البخاري
- اللہ کے رسول ﷺ جب سفر کرتے، تو سفر کی دشواری، لوٹنے کے وقت کے رنج و غم، خوش حالی کے بعد بدحالی، مظلوم کی بد دعا اور گھر بار اور مال میں بری صورت حال سے پناہ…صحیحرواه مسلم
- اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تو قافلہ بنتا ہے۔حسنرواه أبو داود والترمذي وأحمد ومالك
- جب تم ہریالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان اونٹوں کو زمین میں سے ان کا حق دو ( یعنی گھاس چرنے دو) اور جب تم خشک سالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان پر جلدی سفر کرو (…صحیحرواه مسلم
- رات کو سفر کیا کرو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔صحیحرواه أبو داود
- رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور رات کو کہیں ٹھہرتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح صادق سے کچھ دیر پہلے ٹھہرتے تو اپنا (داہنا) بازو کھڑا کرلیتے اور اپنا سر…صحیحرواه مسلم
- رسول الله ﷺ سفر کے دوران پیچھے رہتے، کمزور (کی سواری کو) کو آگے ہانکتے، (اگر وہ پیدل ہوتا تو اسے) اپنے پیچھے سوار کرتے اور اس کے لیے دعا کرتے۔صحیحرواه أبو داود
- رسول اللہ ﷺ سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے، تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: ”سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا…صحیحالرواية الأولى رواها مسلم، والرواية الثانية متفق عليها، والرواية الثالثة رواها مسلم
- اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے۔صحیحرواه أبو داود
- دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے۔صحیححديث أبي هريرة متفق عليه. حديث جابر رواه مسلم
- اللہ کے تقوی کو اپنائے رکھو اور ہر بلند جگہ پر اللہ اکبر کہو۔حسنرواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
- رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے…صحیححديث حذيفة: رواه التُرمذي وأحمد. حديث حفصة: رواه أبو داود والنسائي في الكبرى وأحمد. والزيادة في حديث حفصة
- جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے، تو ”سبحان الله“ کہتے تھے۔صحیححديث جابر -رضي الله عنه- رواه البخاري. حديث ابن عمر -رضي الله عنهما- رواه أبو داود
- جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے، تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔صحیحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
- جس نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا، جس سے اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کی جاتی ہےصحیحرواه أبو داود وابن ماجه وأحمد
- بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان ایسی شے کے (خواب یا بیداری میں) دیکھنے کا دعوی کرے، جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو۔صحیحرواه البخاري
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔