احادیث · 168 حدیث
فضائل
- جس طرح رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے میں بالکل اسی طرح تمھیں نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔صحیحمتفق عليه
- تم ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک یعنی حقیر ہیں جب کہ ہم لوگ رسول الله ﷺ کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاکت خیز کام شمار کرتے تھے۔صحیحرواه البخاري
- میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔صحیحمتفق عليه
- نبی ﷺ کے صحابہ میں سے دو آدمی آپ ﷺ کے پاس سے ایک تاریک رات میں نکلے اور ان کے آگے دو چراغوں کی مانند کچھ تھا۔صحیحرواه البخاري
- انس رضی اللہ عنہ کی والدہ نے ان سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا راز ہر گز کسی کو نہ بتانا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم اے ثابت! اگر میں وہ راز کسی کو…صحیحرواه مسلم وروى البخاري بعضه مختصرا
- چالیس خصلتیں جن میں سب سے اعلیٰ و ارفع دودھ دینے والی بکری کا ہد یہ کرنا ہے۔ ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے ایک خصلت پر بھی عمل پیرا ہوگا ثواب کی نیت سے اور اللہ…صحیحرواه البخاري
- لوگوں میں اللہ کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے، جو ان میں سے سلام کرنے میں پہل کرتا ہے۔صحیحالرواية الأولى رواها أبو داود. الرواية الثانية رواها الترمذي
- لوگوں میں سے سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل بھی اچھا ہو۔صحیحرواه الترمذي وأحمد والدارمي
- بہت سارے پراگندہ بال والے، لوگوں کے دھتکارے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالی پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اُن کی قسم پوری فرما دے۔صحیحرواه مسلم
- ايسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چيز کا سوال کيا گيا ہو اور آپ ﷺ نے جواب ميں ’’نہيں‘‘ فرمايا ہو.صحیححديث جابر متفق عليه ، وحديث أنس رواه مسلم
- جو شخص اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کرتا ہے، اس کے لیے سات سو گنا ثواب لکھا جاتا ہے۔صحیحرواه الترمذي والنسائي وأحمد
- اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بادل کی طرح ہے جو زمین پر برسا ، زمین کا کچھ حصہ اچھا تھا اُس نے اس پانی کو جذب کر لیا…صحیحمتفق عليه
- ایک کھجور کا تنا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ دوران خطبہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر رکھ دیا گیا اور( آپ نے اس تنے پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا) تو ہم…صحیحرواه البخاري
- اللہ کی خوشنودی والدین کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔حسنرواه الترمذي
- یہ کلمے باقیات صالحات (یعنی باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں : ”لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَاَللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا حَوْلَ…صحیحرواه ابن حبان والحاكم، أما النسائي فرواه في الكبرى لكن من حديث أبي هريرة
- ابن آدم کا کوئی ایسا عمل نہیں جو اسے اللہ کے ذکر سے زیادہ اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا ہو۔صحیحرواه أحمد وابن أبي شيبة والطبراني ومالك
- کسی بندے کا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ جس شخص پر ظلم کیا جائے اور وہ اس ظلم و زیادتی پر صبر کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے اور…صحیحرواه الترمذي
- عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے۔حسنرواه الترمذي، وعنده: "والأرضين" بدل "والأرض"، وكذا: "معلم" بدل "معلمي"
- جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے، تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔صحیحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
- جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہےحسنرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي وأحمد
- ایک آدمی راستے میں پڑے درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ضرور ہٹاؤں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔ اس نیکی کی وجہ سے وہ جنت…صحیحالرواية الأولى: رواها مسلم. الرواية الثانية: رواها مسلم. الرواية الثالثة: متفق عليها
- جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، مگر قسم پوری کرنے کے لیے آگ پر سے گزرے گا۔صحیحمتفق عليه
- اس شخص کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے جو نيک عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے۔صحیحرواه مسلم
- ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر (رضی اللہ عنہ) ہیں۔صحیحمتفق عليه
- زبیر میری پھوپھی کا بیٹا ہے اور میری امت میں سے میرا حواری ہے۔صحیحرواه أحمد
- مرض الموت میں رسول اللہ ﷺ پوچھتے رہتے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“ آپ ﷺ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی باری کے منتظر تھے، پھر آپ کی…صحیحمتفق عليه
- میں آج رسول اللہ ﷺ کے دربان کی ذمہ داری سر انجام دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے دروازے کو دھکیلا، تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟…صحیحالرواية الأولى: متفق عليها: البخاري: (ج5/8، ح3674) واللفظ له (ج5/13، ح3695) (ج9/54، ح7097). مسلم: (ج4/1868، ح2403). الرواية الثانية: الزيادة الأولى: "وَأَمَرَنِي رسُول الله صلَّى الله عليه وسلَّم بِحفظِ البابِ" أخرجها البخاري في صحيحه: (ج9/89، ح7262). وأما الزيادة الثانية: "أنَّ عُثمَانَ حِينَ بَشَّرَهُ حَمِدَ الله تَعَالَى، ثُمَّ قَالَ: اللهُ الْمُسْتَعَانُ"، فقد أخرجها البخاري أيضا: (ج8/48، ح6216)
- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی یمن کا امدادی لشکر آتا تو آپ رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے کہ :کیا تمھارے اندر اویس بن عامر ہیں؟صحیحرواه مسلم
- میں نے جب بھی عمر رضی اللہ عنہ کو (کسی مسئلہ میں رائے دیتے ہوئے) یہ کہتے سنا کہ میرے خیال میں یہ ایسے ہے تو وہ بات ویسے ہی نکلتی جیسے آپ کا خیال ہوتا۔صحیحرواه البخاري
- باپ سے محبت کرنے والوں سے صلہ رحمی، بہت بڑی نیکی ہےصحیحرواه مسلم
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔