احادیث · 131 حدیث
طہارت
- ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن غسل کرے، جس کے اندر وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔صحیحمتفق عليه
- میں اسلام قبول کرنے کے مقصد سے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں پانی میں بیری کے پتے ملا کر غسل کروں۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي
- میں ایک دن حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر چڑھا، تو دیکھا کہ نبیﷺ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پشت کرکے قضاے حاجت کر رہے ہیں۔صحیحمتفق عليه
- رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاۓ ہوتے۔ آپ ﷺ پانی کے ذریعے استنجا کرتے تھے۔صحیحمتفق عليه
- ایک اعرابی آیا اور اس نے مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔صحیحمتفق عليه
- ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کر لیا کریں۔صحیحمتفق عليه
- تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو پیشاب نہ کرے۔ اور پھر اسی میں غسل کرنے لگے۔صحیحالرواية الأولى: متفق عليها. الرواية الثانية: رواها مسلم
- رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے باجماعت نماز نہیں پڑھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں ! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روک دیا؟…صحیحمتفق عليه
- میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ موجود تھا۔ آپ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔صحیحمتفق عليه
- میں جنابت کی حالت میں تھا چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری کہ میں آپ کے ساتھ ناپاکی کی حالت میں بیٹھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! مومن نجس نہیں ہوتا“۔صحیحمتفق عليه
- جب کوئی مومن یا مسلم وضو کرتے وقت چہرہ دھوتا ہے، تو جیسے ہی چہرہ سے پانی گرتا ہے، یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے تو اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس نے اپنی…صحیحرواه مسلم
- یا رسول اللہ! اللہ تعالی حق کو بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا۔ آپ یہ بتائیں کہ جب عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہے؟۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے…صحیحمتفق عليه
- مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا۔صحیحالرواية الأولى: متفق عليه. الرواية الثانية: رواها مسلم. الرواية الثالثة: رواها مسلم
- میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑوں سے منی کو دھو ڈالتی تھی۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے؛ حالاںکہ پانی کے دھبے آپ ﷺ کے کپڑے پر موجود ہوتے۔صحیحالرواية الأولى: متفق عليه. الرواية الثانية: رواها مسلم
- کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزوں کی قضا تو کرتی ہے، لیکن نماز کی قضا نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگیں کہ کیا تو حروریہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں، بلکہ صرف پوچھ رہی…صحیحمتفق عليه
- رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا کرتے تھےصحیحالرواية الأولى: متفق عليها الرواية الثانية: رواها مسلم
- رسول اللہ ﷺ میری گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھا کرتے تھے جب کہ میں حالت حیض میں ہوتی۔صحیحمتفق عليه
- وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر…صحیحمتفق عليه
- جب مرد عورت کی چار زانوؤں کے بیچ بیٹھے، پھر مجامعت کرے، تو غسل واجب ہو گیا۔صحیحالرواية الأولى: متفق عليها. الرواية الثانية: رواها مسلم
- میں نے مسواک کے سلسلے میں تم لوگوں سے بارہا کہا ہے۔صحیحرواه البخاري
- جب ہم مسافر ہوتے یا سفر کرنے والے ہوتے تو آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین راتیں نہ اتاریں الا یہ کہ جنابت لاحق ہو، لیکن پیشاب، پاخانے اور…صحیحرواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
- نبی ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آبھی جاتا تھا تو سوائے ہماری ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا،…صحیحرواه البخاري
- اسے چھوڑ دو اور پیشاب پر پانی کا بھرا ہوا ڈول یا بڑا ڈول بہا دو۔ کیوںکہ تم لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے واسطے بھیجے گئے ہو اور تمھیں تنگی پیدا کرنے کے لیے…صحیحمتفق عليه، واللفظ للبخاري
- پانی پاک ہے؛ اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔صحیحرواه أبو داود والنسائي وأحمد
- نبی ﷺ میمونہ رضی اللہ عنہا کے (غسل سے) بچے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے۔صحیحرواه مسلم
- پانی جُنبی نہیں ہوتاصحیحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه
- یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے۔صحیحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وأحمد والدارمي
- لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔صحیحرواه أبو داود والنسائي وابن ماجه
- (پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔صحیحمتفق عليه
- خون کو دھو لینا تمھارے لیے کافی ہے، اس کا اثر (دھبہ) تمھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔صحیحرواه أبو داود وأحمد
متن، ترجمہ، شرح اور حکم: HadeethEnc.com – ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا۔